ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے

دیوان دوم غزل 1010
اب اپنے قد راست کو خم دیکھتے ہیں ہائے
ہستی کے تئیں ہوتے عدم دیکھتے ہیں ہائے
سنتے تھے کہ جاتی ہے ترے دیکھنے سے جاں
اب جان چلی جاتی ہے ہم دیکھتے ہیں ہائے
کیا روتے ہیں یاران گذشتہ کے لیے ہم
جب راہ میں کچھ نقش قدم دیکھتے ہیں ہائے
کچھ عشق کی آتش کی لپٹ پہنچی ہمیں زور
سب تن بدن اپنے کو بھسم دیکھتے ہیں ہائے
دل چاک ہے جاں داغ جگر خوں ہے ہمارا
ان آنکھوں سے انواع ستم دیکھتے ہیں ہائے
مایوس نہ کس طور جہاں سے رہیں ہم میر
اب تاب بہت جان میں کم دیکھتے ہیں ہائے
میر تقی میر