ہر دم جگروں میں کچھ کانٹے سے کھٹکتے ہیں

دیوان اول غزل 311
پلکوں سے ترے شائق ہم سر جو پٹکتے ہیں
ہر دم جگروں میں کچھ کانٹے سے کھٹکتے ہیں
میں پھاڑ گریباں کو درویش ہوا آخر
وے ہاتھ سے دامن کو اب تک بھی جھٹکتے ہیں
یاد آوے ہے جب شب کو وہ چہرئہ مہتابی
آنسو مری پلکوں سے تارے سے چھٹکتے ہیں
کی راہبری میری صحراے محبت میں
یاں حضرت خضر آپھی مدت سے بھٹکتے ہیں
جاتے نہ کوئی دیکھا اس تیغ کے منھ اوپر
واں میان سے وہ لے ہے یاں یار سٹکتے ہیں
کیا تم کو اچنبھا ہے سختی کا محبت میں
دشوار ہی ہوتا ہے دل جن کے اٹکتے ہیں
تو طرئہ جاناں سے چاہے ہے ابھی مقصد
برسوں سے پڑے ہم تو اے میر لٹکتے ہیں
میر تقی میر