ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے

دیوان سوم غزل 1267
سب شرم جبین یار سے پانی ہے
ہرچند کہ گل شگفتہ پیشانی ہے
سمجھے نہ کہ بازیچۂ اطفال ہوئے
لڑکوں سے ملاقات ہی نادانی ہے
جوں آئینہ سامنے کھڑا ہوں یعنی
خوبی سے ترے چہرے کی حیرانی ہے
خط لکھتے جو خوں فشاں تھے ہم ان نے کہا
کاغذ جو لکھے ہے اب سو افشانی ہے
دوزخ میں ہوں جلتی جو رہے ہے چھاتی
دل سوختگی عذاب روحانی ہے
منت کی بہت تو ان نے دو حرف کہے
سو برسوں میں اک بات مری مانی ہے
کل سیل سا جوشاں جو ادھر آیا میر
سب بولے کہ یہ فقیر سیلانی ہے
میر تقی میر