ہجر کی کرنی پڑی ہے نازبرداری مجھے

دیوان اول غزل 627
وصل کی جب سے گئی ہے چھوڑ دلداری مجھے
ہجر کی کرنی پڑی ہے نازبرداری مجھے
میں گریباں پھاڑتا ہوں وہ سلا دیتا ہے میر
خوش نہیں آتی نصیحت گر کی غم خواری مجھے
میر تقی میر