ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو

دیوان اول غزل 381
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
شوق ہی شوق ہے نہیں معلوم
اس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو
خط سے نکلے ہے بے وفائی حسن
اس قدر تو سواد ہے ہم کو
آہ کس ڈھب سے رویئے کم کم
شوق حد سے زیاد ہے ہم کو
شیخ و پیرمغاں کی خدمت میں
دل سے اک اعتقاد ہے ہم کو
سادگی دیکھ عشق میں اس کے
خواہش جان شاد ہے ہم کو
بدگمانی ہے جس سے تس سے آہ
قصد شورو فساد ہے ہم کو
دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیں
اور سب سے عناد ہے ہم کو
نامرادانہ زیست کرتا تھا
میر کا طور یاد ہے ہم کو
میر تقی میر