ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک

دیوان اول غزل 260
دست و پا مارے وقت بسمل تک
ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک
کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ
سعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک
درپئے محمل اس کے جیسے جرس
میں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک
بجھ گئے ہم چراغ سے باہر
کہیو اے باد شمع محفل تک
نہ گیا میر اپنی کشتی سے
ایک بھی تختہ پارہ ساحل تک
میر تقی میر