ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد

دیوان پنجم غزل 1601
اس سے نہ الفت ہو مجھ کو تو ہووے نہ میرا چہرہ زرد
ہاتھ نہ رکھوں کیوں دل پر میں رنج و بلا ہے قیامت درد
ملنے میں خنکی ہی کرتا وہ کاشکے پہلے چاہ کے دن
گرمی نہ ہوتی آپس میں تو کھنچتی نہ ہر دم آہ سرد
برسوں میں اقلیم جنوں سے دو دیوانے نکلے تھے
میر آوارئہ شہر ہوا ہے قیس ہوا ہے بیاباں گرد
میر تقی میر