ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا

دیوان سوم غزل 1099
سطح جو ہاتھوں میں تھا اس کے رخ گلفام کا
ہاتھ ملنا کام ہے اب عاشق بدنام کا
کچھ نہیں عنقا صفت پر شہرئہ آفاق ہوں
سیر کے قابل ہے ہونا پہن میرے نام کا
ہجر کی راتیں بڑی چھوٹی جو ٹک ہوتیں کہیں
اس میں کچھ نقصان ہوتا تھا مگر ایام کا
روئوں یاد زلف میں اس کی تو پھر روتا رہوں
صبح تک جاتا نہیں ہے مینھ آیا شام کا
تاب کس کو اپنا کچا سوت کچھ الجھا ہے میر
گم ہے سررشتہ ہمارے خواب اور آرام کا
میر تقی میر