ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد

دیوان چہارم غزل 1381
تن کو جس جاگہ سے چھیڑوں ہوں وہاں ہے درد درد
ہاتھ لگتے دل کے ہوجاتا ہوں کچھ میں زرد زرد
اب تو وہ حسرت سے آہ و نالہ کرنا بھی گیا
کوئی دم ہونٹوں تک آجاتا ہے گاہے سرد سرد
میر تقی میر