گھر ہے کسو گوشے میں تو مکڑی کا سا گھر ہے

دیوان پنجم غزل 1727
کیا خانہ خرابی کا ہمیں خوف و خطر ہے
گھر ہے کسو گوشے میں تو مکڑی کا سا گھر ہے
میلان نہ آئینے کا اس کو ہے نہ گل کا
کیا جانیے اب روے دل یار کدھر ہے
اے شمع اقامت کدہ اس بزم کو مت جان
روشن ہے ترے چہرے سے تو گرم سفر ہے
اس عاشق دیوانہ کی مت پوچھ معیشت
دنداں بجگر دست بدل داغ بسر ہے
کیا آگ کی چنگاریاں سینے میں بھری ہیں
جو آنسو مری آنکھ سے گرتا ہے شرر ہے
ڈر جان کا جس جا ہے وہیں گھر بھی ہے اپنا
ہم خانہ خرابوں کو تو یاں گھر ہے نہ در ہے
کیا پرسش احوال کیا کرتے ہو اکثر
ظاہر ہے کہ بیمار اجل روز بتر ہے
رہتی ہیں الم ناک ہی وے آنکھیں جو اچھی
بدچشم کسو شخص کی شاید کہ نظر ہے
دیدار کے مشتاق ہیں سب جس کے اب اس کی
کچھ شورش ہنگامۂ محشر میں خبر ہے
سب چاہتے ہیں رشد مرا یوں تو پر اے میر
شاید یہی اک عیب ہے مانع کہ ہنر ہے
میر تقی میر