گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں

دیوان اول غزل 325
ہم تو مطرب پسرکے جاتے ہیں
گو رقیباں کچھ اور گاتے ہیں
خاک میں لوٹتے تھے کل تجھ بن
آج لوہو میں ہم نہاتے ہیں
اے عدم ہونے والو تم تو چلو
ہم بھی اب کوئی دم میں آتے ہیں
ایک کہتا ہوں میں تو منھ پہ رقیب
تیری پشتی سے سو سناتے ہیں
دیدہ و دل کا کیا کیا تھا میں
روز آفت جو مجھ پہ لاتے ہیں
کوئی رووے ہے کوئی تڑپے ہے
کیا کروں میرے گھر سے آتے ہیں
ورنہ میں میر ہوں مرے آگے
دشت غم بھی نہ ٹکنے پاتے ہیں
کھود گاڑوں زمیں میں دونوں کو
گرچہ یہ آسماں پہ جاتے ہیں
دیدہ و دل شتاب گم ہوں میر
سر پہ آفت ہمیشہ لاتے ہیں
میر تقی میر