گویا کہ جان جسم میں سارے نہیں ہے اب

دیوان سوم غزل 1105
طاقت تعب کی غم میں تمھارے نہیں ہے اب
گویا کہ جان جسم میں سارے نہیں ہے اب
کل کچھ صبا ہوئی تھی گل افشاں قفس میں بھی
وہ بے کلی تو جان کو بارے نہیں ہے اب
جیتے تو لاگ پلکوں کی اس کی کہیں گے ہم
کچھ ہوش ہم کو چھڑیوں کے مارے نہیں ہے اب
زردی چہرہ اب تو سفیدی کو کھنچ گئی
وہ رنگ آگے کا سا پیارے نہیں ہے اب
مسکن جہاں تھا دل زدہ مسکیں کا ہم تو واں
کل دیر میر میر پکارے نہیں ہے اب
میر تقی میر