گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا

دیوان دوم غزل 731
خندئہ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا
گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا
کیا گذر کوے محبت میں ہنسی ہے کھیل ہے
پائوں رکھا جس نے ٹک اودھر پھر اس کا سر گیا
کیا کوئی زیرفلک اونچا کرے فرق غرور
ایک پتھر حادثے کا آلگا سر چر گیا
نیزہ بازان مژہ میں دل کی حالت کیا کہوں
ایک ناکسبی سپاہی دکھنیوں میں گھر گیا
بعد مدت اس طرف لایا تھا اس کو جذب عشق
بخت کی برگشتگی سے آتے آتے پھر گیا
تیز دست اتنا نہیں وہ ظلم میں اب فرق ہے
یعنی لوہا تھا کڑا تیغ ستم کا کر گیا
سخت ہم کو میر کے مرجانے کا افسوس ہے
تم نے دل پتھر کیا وہ جان سے آخر گیا
میر تقی میر