گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے

دیوان دوم غزل 1009
اب سمجھ آئی مرتبہ سمجھے
گم کیا خود کے تیں خدا سمجھے
اس قدر جی میں ہے دغا اس کے
کہ دعا کریے تو دغا سمجھے
کچھ سمجھتے نہیں ہمارا حال
تم سے بھی اے بتاں خدا سمجھے
غلط اپنا کہ اس جفاجو کو
سادگی سے ہم آشنا سمجھے
نکتہ داں بھی خدا نے تم کو کیا
پر ہمارا نہ مدعا سمجھے
لکھے دفتر کتابیں کیں تصنیف
پر نہ طالع کا ہم لکھا سمجھے
میر صاحب کا ہر سخن ہے رمز
بے حقیقت ہے شیخ کیا سمجھے
میر تقی میر