گل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم

دیوان اول غزل 276
کیا بلبل اسیر ہے بے بال و پر کہ ہم
گل کب رکھے ہے ٹکڑے جگر اس قدر کہ ہم
خورشید صبح نکلے ہے اس نور سے کہ تو
شبنم گرہ میں رکھتی ہے یہ چشم تر کہ ہم
جیتے ہیں تو دکھادیں گے دعواے عندلیب
گل بن خزاں میں اب کے وہ رہتی ہے مر کہ ہم
یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ ہم ہیں کشتنی
کھیلے ہے کون ایسی طرح جان پر کہ ہم
تلواریں تم لگاتے ہو ہم ہیں گے دم بخود
دنیا میں یہ کرے ہے کوئی درگذر کہ ہم
اس جستجو میں اور خرابی تو کیا کہیں
اتنی نہیں ہوئی ہے صبا در بہ در کہ ہم
جب جا پھنسا کہیں تو ہمیں یاں ہوئی خبر
رکھتا ہے کون دل تری اتنی خبر کہ ہم
جیتے ہیں اور روتے ہیں لخت جگر ہے میر
کرتے سنا ہے یوں کوئی قیمہ جگر کہ ہم
میر تقی میر