گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا

دیوان اول غزل 145
اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا
گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا
کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے
سہتا رہا جفائیں میں جب تک جیا کیا
ہو تار تار سیتے ہی سیتے جو اڑ گیا
اب تک عبث میں اپنا گریباں سیا کیا
سن سن کے تیری بات کو کیا کیا نہ کہہ سنا
کیا کیا کہوں میں تجھ سے کہ کیا کچھ کیا کیا
اب وہ جگر طپش سے تڑپتا ہے تشنہ لب
مدت تلک جو میر کا لوہو پیا کیا
میر تقی میر