گلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا

دیوان اول غزل 124
نئی طرزوں سے میخانے میں رنگ مے جھلکتا تھا
گلابی روتی تھی واں جام ہنس ہنس کر چھلکتا تھا
ترے اس خاک اڑانے کی دھمک سے اے مری وحشت
کلیجا ریگ صحرا کا بھی دس دس گز تھلکتا تھا
گئی تسبیح اس کی نزع میں کب میر کے دل سے
اسی کے نام کی سمرن تھی جب منکا ڈھلکتا تھا
میر تقی میر