گردن شیشہ ہی میں دست رہا

دیوان دوم غزل 755
میں جوانی میں مے پرست رہا
گردن شیشہ ہی میں دست رہا
در میخانہ میں مرے سر پر
ظل ممدود دار بست رہا
سر پہ پتھر جنوں میں کب نہ پڑے
یہ سبو ثابت شکست رہا
ہاتھ کھینچا سو پیر ہوکر جب
تب گنہ کرنے کا نہ دست رہا
آنسو پی پی گیا جو برسوں میں
دل درونے میں آب خست رہا
جب کہو تب بلند کہیے اسے
قد خوباں کا سرو پست رہا
میر کے ہوش کے ہیں ہم عاشق
فصل گل جب تلک تھی مست رہا
میر تقی میر