گئے گذرے خضر علیہ السلام

دیوان اول غزل 281
اگر راہ میں اس کی رکھا ہے گام
گئے گذرے خضر علیہ السلام
دہن یار کا دیکھ چپ لگ گئی
سخن یاں ہوا ختم حاصل کلام
مجھے دیکھ منھ پر پریشاں کی زلف
غرض یہ کہ جا تو ہوئی اب تو شام
سر شام سے رہتی ہیں کاہشیں
ہمیں شوق اس ماہ کا ہے تمام
قیامت ہی یاں چشم و دل سے رہی
چلے بس تو واں جا کے کریے قیام
نہ دیکھے جہاں کوئی آنکھوں کی اور
نہ لیوے کوئی جس جگہ دل کا نام
جہاں میر زیر و زبر ہو گیا
خراماں ہوا تھا وہ محشر خرام
میر تقی میر