کی دوستی کہ یارو اک روگ میں بساہا

دیوان ششم غزل 1795
دشمن ہو جی کا گاہک ہوتا ہے جس کو چاہا
کی دوستی کہ یارو اک روگ میں بساہا
جی ہے جہاں قیامت درد و الم رہا واں
بیمار عاشقی میں شب صبح تک کراہا
تازہ جھمک تھی شب کو تاروں میں آسماں کے
اس آسیا کو شاید پھر کر کنھوں نے راہا
خمیازہ کش ہوں اس کی مدت سے اس ادا کا
لگ کر گلے سے میرے انگڑائی لے جماہا
جانا کہ منھ کھلا ہے آتش کدے کا شاید
سینے کے زخم سے جو سرکا ہے ٹک بھی پھاہا
آنکھیں مری لگو ہیں بے جا نہیں لگیں ہیں
دیکھا ہے جن نے اس کو اس نے مجھے سراہا
میں راہ عشق میں تو آگے ہی دو دلا تھا
پرپیچ پیش آیا ان زلفوں کا دوراہا
کرنا وفا نہیں ہے آسان عاشقی میں
پتھر کیا جگر کو تب چاہ کو نباہا
کہتے تو تھے نہ دیکھو اس سے لگے نہ جائو
سمجھے نہ دیدہ و دل اب کیا کہوں الٰہا
یا مرتضیٰ علیؓ ہے تیرا گداے در یہ
کر حال میر پر بھی ٹک التفات شاہا
میر تقی میر