کیوں کے ہیں گے اس رستے میں ہم سے آہ گراں باراں

دیوان پنجم غزل 1699
منھ کیے اودھر زرد ہوئے جاتے ہیں ڈر سے سبک ساراں
کیوں کے ہیں گے اس رستے میں ہم سے آہ گراں باراں
جی تو پھٹا دیکھ آئینہ ہر لوح مزار کا جامہ نما
پھاڑ گریباں تنگ دلی سے ترک لباس کیا یاراں
کی ہے عمارت دل کی جنھوں نے ان کی بنا کچھ رکھی رہی
اور تو خانہ خراب ہی دیکھے اس بستی کے معماراں
میخانے میں اس عالم کے لغزش پر مستوں کی نہ جا
سکر میں اکثر دیکھے ہم نے بڑے بڑے یاں ہشیاراں
کیا ستھرائو شفاخانے میں عشق کے جاکر دیکھے ہیں
ایدھر اودھر سینکڑوں ہی برپشت بام تھے بیماراں
بعد صبوحی گھگھیاتے گھگھیاتے باچھیں پھٹ بھی گئیں
یارب ہو گی قبول کبھو بھی دعاے صبح گنہگاراں
عشق میں ہم سے تم سے کھپیں تو کھپ جاویں غم کس کو ہے
مارے گئے ہیں اس میداں میں کیا دل والے جگر داراں
میر تقی میر