کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں

دیوان چہارم غزل 1465
کس سے مشابہ کیجے اس کو ماہ میں ویسا نور نہیں
کیوں کر کہیے بہشتی رو ہے اس خوبی سے حور نہیں
شعر ہمارے عالم کے ہر چار طرف کیا دوڑے ہیں
کس وادی آبادی میں یہ حرف و سخن مشہور نہیں
ہم دیکھیں تو دیکھیں اسے پھر پردہ بہتر ہے یعنی
اور کریں نظارہ اس کا ہم کو یہ منظور نہیں
عزت اپنی تہی دستی میں رکھ لی خدا نے ہزاروں شکر
قدر ہے دست قدرت سے یاں حیف ہمیں مقدور نہیں
راہ دور عدم سے آئے بستی جان کے دنیا میں
سویاں گھر اوجڑ ہیں سارے اک منزل معمور نہیں
عشق و جنوں سے اگرچہ تن پر ضعف و نحافت ہے لیکن
وحشت گو ہو عرصۂ محشر مجنوں سے رنجور نہیں
ہجراں میں بھی برسوں ہم نے میر کیا ہے پاس وفا
اب جو کبھو ٹک پاس بلا لے ہم کو وہ تو دور نہیں
میر تقی میر