کیوں رنگ پھرا سا ہے ترے سیب ذقن کا

دیوان پنجم غزل 1572
گلچیں نہیں جو کوئی بھی اس تازہ چمن کا
کیوں رنگ پھرا سا ہے ترے سیب ذقن کا
غربت ہے دل آویز بہت شہر کی اس کے
آیا نہ کبھو ہم کو خیال اپنے وطن کا
جب زمزمہ کرتی ہے صدا چبھتی ہے دل میں
بلبل سے کوئی سیکھ لے انداز سخن کا
کب مشت نمک سے ہوئی تسکین جراحت
لب چش ہے نمک سار مرے زخم کہن کا
جو چاک گریبان کہ دامن کی ہو زہ تک
قربان کیا میر اسے چاک کفن کا
میر تقی میر