کیونکے جئیں یارب حیرت ہے بے مزہ ایسے نامحظوظ

دیوان پنجم غزل 1644
لطف جوانی کے ساتھ گئے پیری نے کیا ہے کیا محظوظ
کیونکے جئیں یارب حیرت ہے بے مزہ ایسے نامحظوظ
رونے کڑھنے کو عیش کہو ہو ہم تو تمھارے دعاگو ہیں
یوں ہی ہمیشہ عشق میں اس کے رکھے ایسا خدا محظوظ
زردی منھ کی اشک کی سرخی دونوں اب تو رنگ پہ ہیں
شاید میر بہت رہتے ہو اس سے ہو کے جدا محظوظ
میر تقی میر