کیسے رکتے تھے خفگی سے آخرکار جنون ہوا

دیوان پنجم غزل 1569
کیا کیا عشق میں رنج اٹھائے دل اپنا سب خون ہوا
کیسے رکتے تھے خفگی سے آخرکار جنون ہوا
تڑپا ہے پہلو میں اب جب طاقت جی میں کچھ نہ رہی
جسم غم فرسودہ ہمارا زرد و زار و زبون ہوا
جنگل میں میں رونے چلا تھا دل جو بھرا تھا میر بہت
آیا سیل آگے سے چلا کیا بخت سے مجھ کو شگون ہوا
میر تقی میر