کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا

دیوان اول غزل 125
تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا
چشم بن اشک ہوئی یا نہ ہوئی یکساں ہے
خاک میں جب وہ ملا موتی کا دانہ ہی گیا
بر مجنوں میں خردمند کوئی جا نہ سکا
عاقبت سر کو قدم کر یہ دوانہ ہی گیا
ہم اسیروں کو بھلا کیا جو بہار آئی نسیم
عمر گذری کہ وہ گلزار کا جانا ہی گیا
جی گیا میر کا اس لیت و لعل میں لیکن
نہ گیا ظلم ہی تیرا نہ بہانہ ہی گیا
میر تقی میر