کیا کیجے میری جان اگر مر نہ جایئے

دیوان اول غزل 595
منصف جو تو ہے کب تئیں یہ دکھ اٹھایئے
کیا کیجے میری جان اگر مر نہ جایئے
اظہار راز عشق کیے بن رہے نہ اشک
اس طفل ناسمجھ کو کہاں تک پڑھایئے
تم نے جو اپنے دل سے بھلایا ہمیں تو کیا
اپنے تئیں تو دل سے ہمارے بھلایئے
فکر معاش یعنی غم زیست تا بہ کے
مر جایئے کہیں کہ ٹک آرام پایئے
جاتے ہیں کیسی کیسی لیے دل میں حسرتیں
ٹک دیکھنے کو جاں بلبوں کے بھی آیئے
لوٹوں ہوں جیسے خاک چمن پر میں اے سپہر
گل کو بھی میری خاک پہ ووہیں لٹایئے
ہوتا نہیں ہوں حضرت ناصح میں بے دماغ
کر کرکے پوچ گوئی مری جان کھایئے
پہنچا تو ہو گا سمع مبارک میں حال میر
اس پر بھی جی میں آوے تو دل کو لگایئے
میر تقی میر