کیا کیا کڑھایا جی سے مارا لوہو پیا افسوس افسوس

دیوان پنجم غزل 1633
کیا کیا تم نے ہم سے کہا تھا کچھ نہ کیا افسوس افسوس
کیا کیا کڑھایا جی سے مارا لوہو پیا افسوس افسوس
نور چراغ جان میں تھا کچھ یوں ہی نہ آیا لیکن وہ
گل ہو ہی گیا آخر کو یہ بجھتا سا دیا افسوس افسوس
رخصت میں پابوس کی سب کے جی جاتا تھا سوان نے
ہاتھ میں عاشق وارفتہ کا دل نہ لیا افسوس افسوس
میر کی آنکھیں مندنے پر وہ دیکھنے آیا تھا ظالم
اور بھی یہ بیمار محبت ٹک نہ جیا افسوس افسوس
میر تقی میر