کیا کیا چرخ نے چکر مارے پیس کے مجھ کو خاک کیا

دیوان پنجم غزل 1550
کیسی سعی حوادث نے کی آخرکار ہلاک کیا
کیا کیا چرخ نے چکر مارے پیس کے مجھ کو خاک کیا
ایسا پلید آلودئہ دنیا خلق نہ آگے ہوا ہو گا
شیخ شہر موا کہتے ہیں شہر خدا نے پاک کیا
قدرت حق میں کیا قدرت جو دخل کسو کی فضولی کرے
اس کو کیا پرکالۂ آتش مجھ کو خس و خاشاک کیا
آہ سے تھے رخنے چھاتی میں پھیلنا ان کا یہ سہل نہ تھا
دو دو ہاتھ تڑپ کر دل نے سینۂ عاشق چاک کیا
خوگر ہونا حزن و بکا سے میر ہمارا یوں ہی نہیں
برسوں روتے کڑھتے رہے ہم تب دل کو غمناک کیا
میر تقی میر