کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی

دیوان دوم غزل 953
جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی
کیا کہیے آج صبح عجب کچھ ہوا چلی
کیا رنگ و بو و بادسحر سب ہیں گرم راہ
کیا ہے جو اس چمن میں ہے ایسی چلا چلی
تو دو قدم جو راہ چلا گرم اے نگار
مہندی کفک کی آگ دلوں میں لگا چلی
فتنہ ہے اس سے شہر میں برپا ہزار جا
تلوار اس کی چال پہ کیا ایک جا چلی
یہ جور و جورکش تھے کہاں آگے عشق میں
تجھ سے جفا و میر سے رسم وفا چلی
میر تقی میر