کیا پھول مرگئے ہیں اس بن خراب ہوکر

دیوان پنجم غزل 1621
آیا نہ پھر ادھر وہ مست شراب ہوکر
کیا پھول مرگئے ہیں اس بن خراب ہوکر
صید زبوں میں میرے یک قطرہ خوں نہ نکلا
خنجر تلے بہا میں خجلت سے آب ہوکر
وعدہ وصال کا ہے کہتے ہیں حشر کے دن
جانا ہوا ولیکن واں سے شتاب ہوکر
دارو پیے نہ ساتھ آ غیروں کے بیشتر یاں
غیرت سے رہ گئے ہیں عاشق کباب ہوکر
یک قطرہ آب اس بن میں نے اگر پیا ہے
نکلا ہے میر پانی وہ خون ناب ہوکر
میر تقی میر