کیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے

دیوان اول غزل 555
طاقت نہیں ہے دل میں نے جی بجا رہا ہے
کیا ناز کر رہے ہو اب ہم میں کیا رہا ہے
جیب اور آستیں سے رونے کا کام گذرا
سارا نچوڑ اب تو دامن پر آرہا ہے
اب چیت گر نہیں کچھ تازہ ہوا ہوں بیکل
آیا ہوں جب بخود میں جی اس میں جارہا ہے
کاہے کا پاس اب تو رسوائی دور پہنچی
راز محبت اپنا کس سے چھپا رہا ہے
گرد رہ اس کی یارب کس اور سے اٹھے گی
سو سو غزال ہر سو آنکھیں لگا رہا ہے
بندے تو طرحدارو ہیں طرح کش تمھارے
پھر چاہتے ہو کیا تم اب اک خدا رہا ہے
دیکھ اس دہن کو ہر دم اے آرسی کہ یوں ہی
خوبی کا در کسو کے منھ پر بھی وا رہا ہے
وے لطف کی نگاہیں پہلے فریب ہیں سب
کس سے وہ بے مروت پھر آشنا رہا ہے
اتنا خزاں کرے ہے کب زرد رنگ پر یاں
تو بھی کسو نگہ سے اے گل جدا رہا ہے
رہتے ہیں داغ اکثر نان و نمک کی خاطر
جینے کا اس سمیں میں اب کیا مزہ رہا ہے
اب چاہتا نہیں ہے بوسہ جو تیرے لب سے
جینے سے میر شاید کچھ دل اٹھا رہا ہے
میر تقی میر