کیا لہو اپنا پیا تب یہ ہنر آیا ہمیں

دیوان دوم غزل 873
دم بہ دم اس ڈھب سے رونا دیر کر آیا ہمیں
کیا لہو اپنا پیا تب یہ ہنر آیا ہمیں
گرچہ عالم جلوہ گاہ یار یوں بھی تھا ولے
آنکھیں جوں موندیں عجب عالم نظر آیا ہمیں
ہم تبھی سمجھے تھے اب اس سادگی پر حرف ہے
خط نکلنے سے جو نامہ بیشتر آیا ہمیں
پاس آتا یک طرف مطلق نہیں اب اس کے پاس
کچھ گئے گذرے سے سمجھا وہ پسر آیا ہمیں
تجھ تک اس بے طاقتی میں کیا پہنچنا سہل تھا
غش ترے کوچے میں ہر ہر گام پر آیا ہمیں
صبح نکلا تھا پسر تلوار جوں خورشید لے
دیکھ کر خونخوار سج اس کی خطر آیا ہمیں
کر چلا بے خود غم زلف دراز دلبراں
دور کا اے میر درپیش اب سفر آیا ہمیں
میر تقی میر