کیا قیامت کا قیامت شور ہے

دیوان سوم غزل 1280
گوش ہر یک کا اسی کی اور ہے
کیا قیامت کا قیامت شور ہے
پوچھنا اس ناتواں کا خوب تھا
پر نہ پوچھا ان نے وہ بھی زور ہے
صندل درد سر مہر و وفا
عاقبت دیکھا تو خاک گور ہے
رشتۂ الفت تو نازک ہے بہت
کیا سمجھ کر خلق اس پر ڈور ہے
ناکسی سے میر اس کوچے کے بیچ
اس طرح نکلے ہے جیسے چور ہے
میر تقی میر