کیا خاک میں ملا ہے افسوس فن ہمارا

دیوان پنجم غزل 1539
رسواے شہر ہے یاں حرف و سخن ہمارا
کیا خاک میں ملا ہے افسوس فن ہمارا
دل خون ہو گیا تھا غم لکھتے سو رہے ہے
شنگرف کے قلم سا پرخوں دہن ہمارا
ظل ریاض میں شب مہتاب کے نہیں گل
انگاروں سے بھرا ہے اس بن چمن ہمارا
میدان عشق میں تو قیمہ بدن ہوا ہے
تہ کرکے خاک ہی میں رکھ دیں کفن ہمارا
میر اس کی آنکھیں دیکھیں ہم نے سفر کو جاتے
عین بلا ہوا ہے سو اب وطن ہمارا
میر تقی میر