کیا حال محبت کے آزار کشیدوں کا

دیوان سوم غزل 1098
احوال نہ پوچھو کچھ ہم ظلم رسیدوں کا
کیا حال محبت کے آزار کشیدوں کا
دیوانگی عاشق کی سمجھو نہ لباسی ہے
صد پارہ جگر بھی ہے ہم جامہ دریدوں کا
عاشق ہے دل اپنا تو گل گشت گلستاں میں
جدول کے کنارے کے نوباوہ دمیدوں کا
ناچار گئے مارے میدان محبت میں
پایا نہ گیا چارہ کچھ اس کے شہیدوں کا
پتے کے کھڑکنے سے ہوتی ہے ہمیں وحشت
کیا طور ہے ہم اپنے سائے سے رمیدوں کا
کیا کیا نہ گیا اس بن صبر اور دماغ و دل
رونق گئی بشرے سے پھر نور بھی دیدوں کا
کرتے ہیں پس از سالے دل شاد گلے لگ کر
سو میر وہ ملنا بھی اب ترک ہے عیدوں کا
میر تقی میر