کیا جاکے دو چار اس سے ہو ناچار ہے عاشق

دیوان پنجم غزل 1660
بیتاب ہے دل غم سے نپٹ زار ہے عاشق
کیا جاکے دو چار اس سے ہو ناچار ہے عاشق
وہ دیکھنے کو جاوے تو بہتر ہے وگرنہ
بدحال و ستم دیدہ و بیمار ہے عاشق
رہتا ہے کھڑا دھوپ میں دو دو پہر آ کے
بے جرم سدا اس کا گنہگار ہے عاشق
اٹھتا نہیں تلوار کے سائے کے تلے سے
یعنی ہمہ دم مرنے کو تیار ہے عاشق
چسپاں ہوئے ہیں میر خریدار سے تنہا
کیا جنس ہے معشوق کہ بازار ہے عاشق
میر تقی میر