کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے

دیوان اول غزل 581
انجام دل غم کش کوئی عشق میں کیا جانے
کیا جانیے کیا ہو گا آخر کو خدا جانے
واں آرسی ہے وہ ہے یاں سنگ ہے چھاتی ہے
گذرے ہے جو کچھ ہم پر سو اس کی بلا جانے
ناصح کو خبر کیا ہے لذت سے غم دل کی
ہے حق بہ طرف اس کے چکھے تو مزہ جانے
میں خط جبیں اپنا یارو کسے دکھلائوں
قسمت کے لکھے کے تیں یاں کون مٹا جانے
بے طاقتی دل نے ہم کو نہ کیا رسوا
ہے عشق سزا اس کو جو کوئی چھپا جانے
اس مرتبہ ناسازی نبھتی ہے دلا کوئی
کچھ خُلق بھی پیدا کر تا خلق بھلا جانے
لے جایئے میر اس کے دروازے کی مٹی بھی
اس درد محبت کی جو کوئی دوا جانے
میر تقی میر