کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے

دیوان اول غزل 584
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے
کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے
سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ
تسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے
دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا
ترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے
ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے
پر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے
عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی
چپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے
دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم
کچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے
ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختررز آفت
کیا پیرمغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے
خونریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں
کب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی
جوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے
ان مغبچوں میں زاہد پھر سرزدہ مت آنا
مندیل تری اب کے ہم نے تو بچالی ہے
کیا میر تو روتا ہے پامالی دل ہی کو
ان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے
میر تقی میر