کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے

دیوان اول غزل 533
تجھ بن خراب و خستہ زبوں خوار ہو گئے
کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے
خوبی بخت دیکھ کہ خوبان بے وفا
بے ہیچ میرے درپئے آزار ہو گئے
ہم نے بھی سیر کی تھی چمن کی پر اے نسیم
اٹھتے ہی آشیاں سے گرفتار ہو گئے
وہ تو گلے لگا ہوا سوتا تھا خواب میں
بخت اپنے سو گئے کہ جو بیدار ہو گئے
اپنی یگانگی ہی کیا کرتے ہیں بیاں
اغیار رو سیاہ بہت یار ہو گئے
لائی تھی شیخوں پر بھی خرابی تری نگاہ
بے طالعی سے اپنی وے ہشیار ہو گئے
کیسے ہیں وے کہ جیتے ہیں صد سال ہم تو میر
اس چار دن کی زیست میں بیزار ہو گئے
میر تقی میر