کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر

دیوان سوم غزل 1131
پیس مارا دل غموں نے کوٹ کر
کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر
ابر سے آشوب ایسا کب اٹھا
خوب روئے دیدئہ تر پھوٹ کر
کیوں گریباں کو پھروں پھاڑے نہ میر
دامن اس کا تو گیا ہے چھوٹ کر
میر تقی میر