کہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

دیوان اول غزل 481
برنگ بوے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
کہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہم
غبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے
الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنھیں ہے بندگی خواہش
ہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے
تو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوں
ترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے
اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچے
جو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے
کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میر کیا جانیں
انھیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے
میر تقی میر