کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا

دیوان اول غزل 82
نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا
کہ کاروان کا کنعاں کے جی نکال لیا
رہ طلب میں گرے ہوتے سر کے بھل ہم بھی
شکستہ پائی نے اپنی ہمیں سنبھال لیا
رہوں ہوں برسوں سے ہم دوش پر کبھو ان نے
گلے میں ہاتھ مرا پیار سے نہ ڈال لیا
بتاں کی میر ستم وہ نگاہ ہے جس نے
خدا کے واسطے بھی خلق کا وبال لیا
میر تقی میر