کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو

دیوان دوم غزل 923
خدا کرے کہ بتوں سے نہ آشنائی ہو
کہ پھر موئے ہی بنے ہے اگر جدائی ہو
بدن نما ہے ہر آئینہ لوح تربت کا
نظر جسے ہو اسے خاک خودنمائی ہو
بدی نوشتے کی تحریر کیا کروں اپنے
کہ نامہ پہنچے تو پھر کاغذ ہوائی ہو
فرو نہ آوے سر اس کا طواف کعبہ سے
نصیب جس کے ترے در کی جبہہ سائی ہو
ہماری چاہ نہ یوسفؑ ہی پر ہے کچھ موقوف
نہیں ہے وہ تو کوئی اور اس کا بھائی ہو
گلی میں اس کی رہا جا کے جو کوئی سو رہا
وہی تو جاوے ہے واں جس کسو کی آئی ہو
لب سوال نہ اک بوسے کے لیے کھولوں
ہزار مہر و محبت میں بے نوائی ہو
زمانہ یار نہیں اپنے بخت سے اتنا
کہ مدعی سے اسے ایک دن لڑائی ہو
جفا و جور و ستم اس کے آپ ہی سہیے
جو اپنے حوصلہ میں کچھ بھی اب سمائی ہو
ہزار موسم گل تو گئے اسیری میں
دکھائی دے ہے موئے ہی پہ اب رہائی ہو
چمکتے دانتوں سے اس کے ہوئی ہے روکش میر
عجب نہیں ہے کہ بجلی کی جگ ہنسائی ہو
میر تقی میر