کہ شکل صبح مری سب کو بھول جاتی ہے

دیوان دوم غزل 1042
یہ رات ہجر کی یاں تک تو دکھ دکھاتی ہے
کہ شکل صبح مری سب کو بھول جاتی ہے
طپش کے دم ہی تئیں مجھ سے ہے یہ خوں گرمی
وگرنہ تیغ تری کب گلے لگاتی ہے
ہنسے ہے چاک قفس کھلکھلا کے مجھ اوپر
چمن کی یاد میں جب بے کلی رلاتی ہے
ہوا ہے میر سے روشن کہ کل جبھی ہے شمع
زباں ہلانے میں پروانے کو جلاتی ہے
میر تقی میر