کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر

دیوان اول غزل 210
قیامت تھا سماں اس خشمگیں پر
کہ تلواریں چلیں ابرو کی چیں پر
نہ دیکھا آخر اس آئینہ رو نے
نظر سے بھی نگاہ واپسیں پر
گئے دن عجز و نالہ کے کہ اب ہے
دماغ نالہ چرخ ہفتمیں پر
ہوا ہے ہاتھ گلدستہ ہمارا
کہ داغ خوں بہت ہے آستیں پر
خدا جانے کہ کیا خواہش ہے جی کو
نظر اپنی نہیں ہے مہروکیں پر
پر افشانی قفس ہی کی بہت ہے
کہ پرواز چمن قابل نہیں پر
جگر میں اپنے باقی روتے روتے
اگرچہ کچھ نہیں اے ہم نشیں پر
کبھو جو آنکھ سے چلتے ہیں آنسو
تو بھر جاتا ہے پانی سب زمیں پر
قدم دشت محبت میں نہ رکھ میر
کہ سر جاتا ہے گام اولیں پر
میر تقی میر