کہتا ہے ترا سایہ پری سے کہ ہے کیا تو

دیوان اول غزل 379
قد کھینچے ہے جس وقت تو ہے طرفہ بلا تو
کہتا ہے ترا سایہ پری سے کہ ہے کیا تو
گر اپنی روش راہ چلا یار تو اے کبک
رہ جائے گا دیوار گلستاں سے لگا تو
بے گل نہیں بلبل تجھے بھی چین پہ دیکھیں
مر رہتے ہیں ہم ایک طرف باغ میں یا تو
خوش رو ہے بہت اے گل تر تو بھی ولیکن
انصاف ہے منھ تیرے ہی ویسا ہے بھلا تو
کیا جانیے اے گوہر مقصد تو کہاں ہے
ہم خاک میں بھی مل گئے لیکن نہ ملا تو
اس جینے سے اب دل کو اٹھا بیٹھیں گے ہم بھی
ہے تجھ کو قسم ظلم سے مت ہاتھ اٹھا تو
منظر میں بدن کے بھی یہ اک طرفہ مکاں تھا
افسوس کہ ٹک دل میں ہمارے نہ رہا تو
تھے چاک گریبان گلستاں میں گلوں کے
نکلا ہے مگر کھولے ہوئے بند قبا تو
بے ہوشی سی آتی ہے تجھے اس کی گلی میں
گر ہوسکے اے میر تو اس راہ نہ جا تو
میر تقی میر