کہتا ہے بن سنے ہی میں خوب جانتا ہوں

دیوان اول غزل 334
جب درددل کا کہنا میں دل میں ٹھانتا ہوں
کہتا ہے بن سنے ہی میں خوب جانتا ہوں
شاید نکل بھی آوے دل گم جو ہو گیا ہے
اس کی گلی میں بیٹھا میں خاک چھانتا ہوں
اس دردسر کا لٹکا سر سے لگا ہے میرے
سو سرکا ہووے صندل میں میر مانتا ہوں
میر تقی میر