کہاں تک خاک میں میں تو گیا مل

دیوان دوم غزل 853
بہت مدت گئی ہے اب ٹک آ مل
کہاں تک خاک میں میں تو گیا مل
ٹک اس بے رنگ کے نیرنگ تو دیکھ
ہوا ہر رنگ میں جوں آب شامل
نہیں بھاتا ترا مجلس کا ملنا
ملے تو ہم سے تو سب سے جدا مل
غنیمت جان فرصت آج کے دن
سحر کیا جانے کیا ہو شب ہے حامل
اگرچہ ہم نہیں ملنے کے لائق
کسو تو طرح ہم سے بھی بھلا مل
لیا زاہد نے جام بادہ کف پر
بحمد اللہ کھلا عقد انامل
وہی پہنچے تو پہنچے آپ ہم تک
نہ یاں طالع رسا نے جذب کامل
ہوا دل عشق کی سختی سے ویراں
ملائم چاہیے تھا یاں کا عامل
پس از مدت سفر سے آئے ہیں میر
گئیں وہ اگلی باتیں تو ہی جا مل
میر تقی میر