کہاں تلک گل نہ ہووے غنچہ رہا مندے منھ سو تنگ آیا

دیوان چہارم غزل 1340
بہار آئی چلو چمن میں ہوا کے اوپر بھی رنگ آیا
کہاں تلک گل نہ ہووے غنچہ رہا مندے منھ سو تنگ آیا
چلے ہیں مونڈھے پھٹی ہے کہنی چسی ہے چولی پھنسی ہے مہری
قیامت اس کی ہے تنگ پوشی ہمارا جی تو بتنگ آیا
وہی ہے رونا وہی ہے کڑھنا وہی ہے شورش جوانی کی سی
بڑھاپا آیا ہے عشق ہی میں پہ میر ہم کو نہ ڈھنگ آیا
میر تقی میر